بیجنگ،16؍مئی(ایس او نیوز؍ایجنسی)چین نے خلائی شعبہ میں بڑی چھلانگ لگاتے ہوئے مریخ کی سطح پر ایک روور اتار دیا ہے۔ اسی کے ساتھ چین دنیا کا دوسرا ایسا ملک بن گیا ہے جس نے کامیابی کے ساتھ مریخ کی سطح پر روور بھیجا ہے۔ سات مہینے کے خلائی سفر، تین مہینے تک مدار کی گردش اور آخر میں سب سے اہم نو منٹ کے بعد چین نے یہ اعزاز حاصل کیا۔
چائنا نیشنل اسپیس ایڈمنسٹریشن (سی این ایس اے) نے کہا ہے کہ چورونگ روور نے ہفتہ کے روز مریخ پر کامیابی کے ساتھ لینڈنگ کی۔ روور ایک چھوڑا خلائی روبوٹ ہوتا ہے جس میں پہئے لگے ہوئے ہوتے ہیں۔
بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق، چو رونگ چھ پہیوں والا روور ہے۔ یہ مریخ کے یوٹوپیا پلی نیشیا میدان تک پہنچا ہے جو اس کے نصف کرہ شمالی کا حصہ ہے۔چین نے اس روور میں ایک پروٹیکٹیو کیپسول، ایک پیراشوٹ اور راکٹ پلیٹ فارم کا استعمال کیا ہے۔ چین کا یہ روور یوٹوپیا پلی نیشیا سے مریخ کی تصاویر بھیجے گا۔ چینی انجینئر اس پر مدت طویل سے کام کر رہے تھے۔ مریخ سے زمین کا موجودہ فاصلہ 32 کروڑ کلومیٹر ہے، اس کا مطلب زمین تک ریڈیو پیغام کے پہنچنے میں 18 منٹ کا وقت لگے گا۔چورونگ روور کو مریخ پر اتارنے میں چین کو ایسے وقت میں کامیابی حاصل ہوئی ہے جبکہ اس کی عالمی تکنیکی قیادت کے حوالہ سے امریکہ کے ساتھ ہوڑ چل رہی ہے۔ اگرچہ خلائی سائنس میں امریکہ نے آج تک بڑی کامیابیاں حاصل کی ہیں، تاہم اب چین سے اسے سخت چیلنج کا سامنا ہے۔